اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ڈیلی میل نے رپورٹ کیا ہے کہ سڈنی کی کینٹربری بینکس ٹاؤن سٹی کونسل نے مسجد علی بن ابی طالبؑ، جسے لاکمبا مسجد بھی کہا جاتا ہے، کی جانب سے ہر جمعہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان نشر کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
مسجد انتظامیہ کی جانب سے یہ درخواست رواں سال مئی میں لبنانی مسلم ایسوسی ایشن نے جمع کرائی تھی۔ تاہم، کونسل نے علاقے میں ممکنہ شور کی آلودگی کو درخواست مسترد کرنے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر مقامی اور میڈیا سطح پر بحث شدت اختیار کرگئی اور کونسل کو اس منصوبے کے خلاف 1,600 سے زائد اعتراضات اور شکایات موصول ہوئیں۔
دوسری جانب اذان کی اجازت کے حامیوں نے بھی بڑی تعداد میں دستخط جمع کرکے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی۔ لبنانی مسلم ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ صرف شور کا نہیں بلکہ مسلمانوں کے اپنے مذہبی تشخص، تعلق اور معاشرے میں قبولیت کا بھی ہے۔
کونسل کے آزاد رکن سعود ابوسمحہ نے بھی اذان کی اجازت کی حمایت کرتے ہوئے مخالفین کی جانب سے شور کی آلودگی کو بنیاد بنانے پر اعتراض کیا۔
لبنانی مسلم ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی آواز کا اثر مسجد کے اطراف ہالڈن اسٹریٹ تک محدود رہے گا اور اس سے علاقے میں غیر معمولی صوتی آلودگی پیدا نہیں ہوگی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریلیا میں مسلم برادری کی مذہبی شناخت اور عوامی مقامات پر مذہبی اظہار کے حق پر بحث جاری ہے۔ مسجد انتظامیہ کے نزدیک اذان کی اجازت صرف ایک مذہبی اعلان کی اجازت نہیں بلکہ معاشرے میں مسلمانوں کے مساوی شہری اور مذہبی حقوق کی علامت بھی ہے۔
آپ کا تبصرہ